Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آفاق نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی فتوی نمبر : 5275-WAT
- Fatwa no.
- 5275-WAT
- Issued
- 20 صفر المظفر 1448ھ /04 اگست 2026ء
Question
آفاق نام رکھنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال آفاق نام رکھنا کیسا ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم آفاق نام رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آفاق، افق کی جمع ہے اور افق عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کا معنی ہے "آسمان کا کنارہ ، ہواؤں کے چلنے کی جگہ "۔ بچے کا یہ نام رکھنا جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں محمد " نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ اور صحا بہ کرام و تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان الله تعالی علیم اجمعین نیک لوگوں کے ناموں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.