Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عمرے میں سعی کرنا سنت ہے یا واجب؟
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5273-WAT
- Issued
- 09 صفر المظفر 1448 / 24 جولائی 2026
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم عمرے میں سعی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرے میں سعی کرنا سنت ہے یا واجب ؟ جواب عمرے میں سعی کرنا واجب ہے ۔ نیز اس کا حلق یا تقصیر سے پہلے ہونا بھی واجب ہے ۔ البحر العمیق میں ہے ” أن السعی واجب“ ترجمہ : ( عمرہ میں) سعی واجب ہے ۔ (البحر العمیق ، ج 3، ص 1282، مطبوعہ : مكة المكرمة) شمس الائمہ، امام مئر نبی علیہ الرحمہ (سال وفات : 1090/483 ) لکھتے ہیں : "والسعي من أعمال العمرة فعليه أن يأتي به قبل التحلل بالحلق "ترجمہ : اور سعی عمرے کے افعال میں سے ہے ، لہذا عمرہ کرنے والے پر واجب ہے کہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.