Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ہادیہ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

Answered by
مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی
Fatwa no.
5250-WAT
Issued
22 صفر المظفر 1448ھ / 06 اگست 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچی کا نام ہادیہ رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہادیہ نام رکھنا کیسا؟ جواب ہادیہ نام رکھنا جائز ہے ۔ ہادیہ ، ہادی کی مونث ہے ، اور ہادی کا معنی ہے : ہدایت کرنے والا، راہ نما ( رہنمائی کرنے والا)، پیشوا لہذا اس نام میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں ، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.