Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جرم والی مہندی میں قرآن چھونا اور نماز پڑھنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جرم والی مہندی لگالی ہو تو قرآن مجید چھونے اور نماز پڑھنے کے احکام دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ تہہ (جرم) والی کون مہندی ہاتھ پر لگی ہوئی ہے ، آئندہ تو احتیاط کریں گے لیکن کیا اب قرآن پاک کو چھو سکتے ہیں ؟ جواب تہ والی مہندی، جو جسم تک پانی پہنچنے سے رکاوٹ ہے ، ایسی مہندی لگے ہونے کی حالت میں نہ قرآن پاک چھو سکتے ہیں، اور نہ نماز پڑھ سکتے ہیں؛ کیونکہ مہندی لگے ہونے کی صورت میں وضو میں مہندی کے نیچے پانی نہیں پہنچے گا ، اور اس طرح وضو نہیں ہوگا ، اور بغیر وضو قرآن پاک کو چھونا اور نماز پڑھنا ،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.