Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد بیت کے اوپر یا ساتھ واش روم بنانا کیسا؟

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
5216-WAT
Issued
12 صفر المظفر 1448ھ / 27 جولائی 2026ء علم الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم مسجد بیت کے اوپر واش روم ہونا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نیچے مسجد بیت بنائیں اور اس کے اوپر واش روم ہو، تو کیا مسجد بیت ٹھیک رہے گی؟ اور اگر بالکل مسجد بیت کے ساتھ واش روم ہو تو کیا وہ مسجد بیت ٹھیک ہے ؟ جواب گھر میں جو جگہ نماز کے لیے خاص کر دی جائے ، وہ مسجد بیت کہلاتی ہے ، اور مسجد بیت حقیقاً مسجد نہیں ہوتی ، اسی وجہ سے مسجد بیت کے احکام ، عام وقف شدہ مساجد کی طرح نہیں ہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر نیچے کسی کمرے کو مسجد بیت قرار دیں ، اور اس کے اوپر واش روم ہو، تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.