Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے کسی رکن میں تکبیر چھوٹ جانا
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5214-WAT
- Issued
- 10 صفر المظفر 1448ھ / 25 جولائی 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز کے کسی رکن میں کوئی تکبیر رہ جائے تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر دوران نماز کسی رکن میں تکبیر چھوٹ جائے، توکیا نماز ادا ہو جائے گی ۔ ؟ جواب دوران نماز کسی رکن میں تکبیر چھوٹ جائے، تو نماز ہو جائے گی، سجدہ سہو یا نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوگا، کیونکہ تکبیرات انتقالات سنت ہیں ، اور سنت کے چھوٹنے سے سجدہ سہو وغیرہ لازم نہیں ہوتا۔ ہاں ! یہ یادر ہے کہ عیدین کی دوسری رکعت کے رکوع کی تکبیر واجب ہے ، اگر وہ بھولے سے چھوٹی تو سجدہ سہو اور جان بوجھ کر چھوڑی تو نماز کا اعادہ لازم ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.