Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احرام کی نیت سے پہلے خوشبو والا تیل لگانا کیسا؟

Answered by
ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
5204-WAT دام الافيا اهلسنت
Issued
06 صفر المظفر 1448 / 21 جولائی 2026. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم احرام کی نیت کرنے سے قبل خوشبو والا تیل سر پر لگانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ احترام کی نیت کرنے سے قبل سر پر خوشبو والا تیل لگانا کیسا ہے ؟ جبکہ نیت کے بعد بھی تیل سر پر رہے گا ، اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں ہے ؟ جواب احرام کی نیت سے پہلے سر پر خوشبو والا تیل لگانا جائز ہے ، اگر چہ احرام کی نیت کے بعد خوشبو والا تیل سر پر رہے، کیونکہ احرام کی نیت کرنے سے پہلے بدن پر خوشبولگا نا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کے عمل مبارک سے ثابت ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.