Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچی کا نام نور مدینہ رکھنا کیسا؟

Answered by
ابوالفینان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
5194-WAT
Issued
29 محرم الحرام 1448 / 15 جولائی 2026. عالم الافيا اهلسنت

Question

کیا بچی کا نام نور مدینہ رکھ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

سوال کیا بچی کا نام نور مدینہ رکھ سکتے ہیں ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم بچی کا نام نور مدینہ رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) معنی کے اعتبار سے بچی کا یہ نام رکھنا جائز ہے کہ نور کا معنی " روشی " ہے اور مدینہ کا معنی " شہر " ہے ، دونوں کو ملا کر معنی کیا جائے ، تو معنی ہوگا "شہر کا نور ، لیکن ہمارے ہاں عموماً مدینہ کا لفظ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے شہر مبارک کے لیے بولا جاتا ہے ، اس لحاظ سے نورِ مدینہ کا معنی مدینے کی روشنی ہو گا اور اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچیوں کے نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.