Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وراثت میں سوتیلی اولاد کا حصہ ہوگا؟

Answered by
ابوالفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی فتوی نمبر : 5145-WAT
Fatwa no.
5145-WAT
Issued
11 محرم الحرام 1448ھ / 27 جون 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم وراثت میں سوتیلی اولاد کے حصے کے متعلق تفصیل کیا وراثت میں سوتیلی اولاد کا حصہ نہیں ہوتا ہے ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوتیلی اولاد شرعی طور پر وراثت کی حق دار نہیں، کیونکہ وراثت کا دار ومدار نسبی رشتہ داری ، نکاح اور والا ( یعنی عتاق و موالات) پر ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے ﴿وَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْ بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَبِكَ مِنْكُمْ وَأُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أولى بِبَعْضٍ فِي كِتَبِ اللهِ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ “ ترجمہ کنز العرفان : اور جو اس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.