Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حج کے لیے قرض لینا جائز ہے؟

Answered by
مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
Fatwa no.
5134-WAT
Issued
27 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ /24 جون 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم حج پہ جانے کے لیے قرض لینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حج پر جانے کے لیے پیسے کم پڑرہے ہوں، تو کیا کسی سے تھوڑی سی رقم ادھار لے سکتے ہیں ؟ جواب حج پر جانے کے لئے قرض لینا جائز ہے ، بلکہ اگر کسی شخص پر حج فرض تھا لیکن ادا نہ کیا ، پھر مال ضائع ہو گیا تو فقہا سے کرام اسے قرض لے کر حج پر جانے کا حکم دیتے ہیں۔ امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : "اگر مال حلال اس قدر اس کے پاس ہے یا کسی موسم میں ہوا تھا تو اس پر حج فرض ہے مگر رشوت وغیرہ حرام مال کا اس میں صرف کرنا حرام ہے اور وہ حج قابل قبول نہ ہو گا اگرچہ فرض ساقط ہو جائے گا ۔ ۔ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.