Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سنتِ غیر مؤکدہ چھوڑنے والے کی امامت کا حکم

Answered by
مفتی محمد حسان عطاری مدنی
Fatwa no.
5130-WAT
Issued
04 محرم الحرام 1448ھ /20 جون 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم سنت غیر مؤکدہ ادا نہ کرنے والے کا امامت کروانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جو شخص سنت غیر مؤکدہ ادا نہیں کرتا، کیا وہ امامت کروا سکتا ہے ؟ جواب جی ہاں ! ایسا شخص جس میں امامت کی شرائط تو موجود ہوں، لیکن وہ سنت غیر مؤکدہ ادا نہ کرتا ہو، تو وہ امامت کروا سکتا ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سنت غیر مؤکدہ کی شریعت مبارکہ میں ترغیب دلائی گئی ہے ، نیز اس کے ترک کو نا پسند کہا گیا ہے ، البتہ ! اسے چھوڑنا یا چھوڑنے کی عادت بنا لینا گناہ نہیں ہے ۔ لہذا ایسے شخص کی امامت میں شرعاً کوئی حرج نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.