Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عقیقہ کے گوشت کی ران دائی کو دینے کا حکم
- Answered by
- مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5129-WAT
- Issued
- 04 محرم الحرام 8 رام 1448ھ / 20 جون 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا عقیقہ کے گوشت کی ران وانی کو دینا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ کیا عقیقہ کے گوشت کی ران دائی کو دینا ضروری ہے، کیا ایسی کوئی حدیث ہے؟ براہ مہربانی رہنمائی فرما دیں ۔ جواب عقیقہ کے گوشت کی ران دائی کو دینا ضروری یا واجب نہیں ، البتہ بعض احادیث و آثار میں دائی کو ران دینے کا ذکر آیا ہے ، اسی وجہ سے فقہائے کرام نے اسے مستحب قرار دیا ہے ۔ لہذا اگر کوئی دائی کو ران دے تو اچھا ہے ، اور ثواب کی امید ہے ، لیکن نہ دے تو بھی عقیقہ درست ہے اور کوئی گناہ بھی نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.