Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پندرہ دن سے زیادہ رکنے والا کب مقیم شمار ہوگا؟
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5128-WAT
- Issued
- 06 محرم الحرام 1448ھ /22 جون 2026ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم اقامت کی نیت کے بغیر کسی جگہ پندرہ دن سے زیادہ رکنا ہو، تو کیا پوری نماز پڑھیں گے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسافر کو معلوم ہے کہ میں نے 15 دن سے زیادہ رکنا ہے؟ لیکن وہ قیام کی نیت نہیں کرتا، توکیا وہ مقیم ہوگا یا مقیم ہونے کے لئے نیت کرنا شرط ہے ؟ جواب نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، اس کے لئے زبان سے بولنا ضروری نہیں، اور جس شخص کو معلوم ہے کہ اس نے فلاں جگہ پندرہ دن قیام کرنا ہے ، تو اس علم کے ضمن میں اس کی نیت بھی لا محالہ پائی جارہی ہے، لہذا جس شخص نے یوں پندرہ دن سے زائد کسی جگہ قیام کرنا ہو اور اسے یقینی طور پر معلوم ہو کہ میں نے پندرہ دن رکنا ہی ہے، تو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.