Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جانور کی ٹانگ ٹوٹنے کے بعد صحیح ہو جائے تو قربانی کا حکم
- Answered by
- مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5114-WAT
- Issued
- 02 محرم الحرام 1448ھ / 18 جون 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جانور کی ٹانگ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ صحیح ہوگئی تو اس کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ ایسا جانور جس کی ٹانگ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ صحیح ہو گئی تھی، تو کیا اس کی قربانی ہو جائے گی ؟ جواب جی ہاں، اگر کسی جانور کی ٹانگ پہلے ٹوٹ گئی تھی، لیکن بعد میں جڑ گئی ، اور اس میں لنگڑا پن باقی نہ رہا، یا کچھ لنگڑا اپن ہے ، لیکن وہ واضح نہیں، اور قربان گاہ تک جاسکتا ہے ، تو اس کی قربانی ہو جائے گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.