Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تیرہ ذو الحج کی رمی فجر کے بعد کرنا کیسا؟
- Answered by
- ابوالفیضان مولانا عرفان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5099-WAT
- Issued
- 24 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 10 جون 2026ء علم الافتاء اهلسنت
Question
13 ذوالحجہ کی رمی فجر کے بعد کر سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال 13 ذوالحجہ کی رمی فجر کے بعد کر سکتے ہیں ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم تیرہ ذی الحجہ کی رمی کا وقت دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) 13 ذوالحجہ کی رمی کا وقت، فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک ہے ، البتہ اظہر کا وقت شروع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا وقت، سنت ہے ، اور فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تک کا وقت ، مکروہ وقت ہے ، اب اگر بغیر کسی عذر کے ظہر کا وقت شروع ہونے سے پہلے رمی کی، تو کراہت ہے ، اور عذر ہو تو پھر مکروہ نہیں۔ لہذا اگر کوئی 13 ذوالحجہ کو فجر کے بعد رمی کرے ، تو اس کی رمی ہو جائے گی لیکن بلا عذر کرے گا، تو مکروہ ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.