Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وراثت سے عاق کرنے کی وصیت پوری کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
Fatwa no.
5098-WAT
Issued
24 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /10 جون 2026ء علم الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم اولاد کو وراثت سے محروم کرنے کی وصیت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مرنے والے نے وصیت کی کہ : "میرے مرنے کے بعد میرے ایک بیٹے اور تین بیٹیوں کو وراثت سے حصہ مت دینا اور باقی چھ بیٹوں کو حصہ دینا ۔ " تو اس کی وصیت پوری کی جائے گی کہ نہیں ؟ جواب شریعت مطہرہ کی طرف سے وارث کے لئے وراثت سے جو حصہ مقرر ہے ، وہ جبری حصہ ہے ، مرنے والے کی طرف سے وراثت سے محروم کرنے کی وصیت کرنے سے بھی کسی وارث کا حصہ ساقط نہیں ہوتا، لہذا پوچھی گئی صورت میں مرنے والے کی مذکورہ وصیت کا کوئی اعتبار نہیں، تمام ورثا کو ان کا مقررہ حصہ ملے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.