Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تحفہ میں ملا قربانی کا گوشت آگے صدقہ کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
5096-WAT
Issued
25 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /11 جون 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم تحفہ یا صدقہ کے طور پر ملاقربانی کا گوشت آگے صدقہ کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قربانی کا گوشت تھنے میں ملا ہو، یا وہ گوشت، جو بطور صدقہ ملا ہو، کیا اس ملنے والے گوشت کو ، آگے صدقہ و خیرات کرنا جائز ہے ؟ رہنمائی فرمائیں۔ جواب جسے قربانی کا گوشت بطور تحفہ یا بطور صدقہ ملا ہو، اور وہ آگے صدقہ و خیرات کرنے کا اہل ہو (مثلا عاقل و بالغ ہو)، تو اس کے لیے گوشت کو آگے صدقہ وخیرات کرنا درست ہے ، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ بطور صدقہ یا بطور تحفہ ملنے والی چیز پر قبضہ کرنے کے بعد ، انسان اس کا مالک بن جاتا ہے ، اور اپنی ملکیت کی چیز صدقہ و خیرات کرنا، جائز ہے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.