Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا قربانی کے نصاب میں خالص چاندی کا اعتبار ہوگا؟
- Answered by
- ابو شاید مولانا محمد ماجد علی مدنی
- Fatwa no.
- 5084-WAT
- Issued
- 22 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 08 جون 2026ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نصاب کی مقدار میں خالص چاندی کا اعتبار ہے یا کھوٹ والی کا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی ہو، تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟ نیز اس میں چاندی کے بسکٹ کا اعتبار ہے یا چاندی کے زیور کا ؟ برائے کرم اس کی وضاحت کر دیجئے ۔ جواب جی ہاں ! جس کے پاس حاجت اور قرض (اگر ہے، تو اس) سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی ، یا اتنی ہی چاندی کی رقم ، یا اتنی ہی مالیت کا کسی قسم کا مال، سامان، یا جائیداد وغیرہ ہو، تو اس پر قربانی واجب ہے، نیز اس کے لیے بسکٹ والی بالکل خالص چاندی ہونا ضروری نہیں ہے ، ایسی چاندی جس میں غالب چاندی ہو ، وہ بھی کافی ہے ،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.