Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چوری کے جانور کی قربانی کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5083-WAT
- Issued
- 22 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 08 جون 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم چوری کے جانور کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم نے جانور خریدا ، اور جانور خریدنے کے بعد علم ہوا ، کہ یہ چوری کا ہے ، تو کیا ایسے جانور کی قربانی کر سکتے ہیں ؟ جواب چوری کے جانور کی قربانی کرنا جائز نہیں ؛ بلکہ مالک کو واپس کیا جائے ، اور اگر وہ نہ ہو ، تو اس کے وارثوں کو ، اور ان کا بھی پتا نہ چل سکے ، تو فقر کو دیا جائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.