Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5079-WAT
- Issued
- 29 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 15 جون 2026ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم عید الا ضحی کی نماز کے بعد تکبیرات تشریق پڑھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک امام صاحب نے بقر عید کی نماز پڑھائی، اور نماز عید کے فوراً بعد لوگوں نے تکبیر تشریق پڑھنا شروع کیا ، امام صاحب نے منع کیا، اور کہا : " نماز عید کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا جائز نہیں ۔ "لوگوں نے بولنا شروع کر دیا، اور کہا : ہم بچپن سے پڑھ رہے ہیں ، کسی نے منع نہیں کیا ۔ "تو کیا بقر عید کی نماز کے بعد تکبیر تشریق پڑھنا جائز نہیں ہے ؟ مفصل جواب ارشاد فرمائیں ۔ جواب عید الاضحی کی نماز کے بعد تکبیر تشریق کہنا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں، اس کو نا جائز کہنا ہر گز درست نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.