Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کھانسنے والے کی قربانی کا حکم

Answered by
مولانا محمد انس رضا عطارمی مدنی
Fatwa no.
5075-WAT
Issued
19 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /05 جون 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس بکرے کو کھانسی لگی ہو اس کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے قربانی کے لیے ایک بحرا خریدا ہے ، لیکن اسے کھانسی ہو گئی ہے ، تاہم ! اسے کھانے پینے میں کوئی تکلیف نہیں، وہ معمول کے مطابق کھاپی رہا ہے ، اور کمزور بھی نہیں ہو رہا، صرف کھانسی ہے ۔ کیا اس بکرے کی قربانی درست ہو جائے گی ؟ جواب ایسا بکرا ، جس کو صرف معمولی کھانسی ہے ، جو اسے کھانے پینے سے مانع نہیں، اور اس کے علاوہ کوئی مانع قربانی عیب بھی نہیں پایا جاتا، اس کی قربانی جائز ہے، کیونکہ قربانی سے مانع وہ عیب ہوتا ہے، جو کسی عضو مقصود کی منفعت کو مکمل طور پر ختم کر دے یا خوبصورتی کو کامل…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.