Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کی رقم شوہر کے پاس ہو تو قربانی کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5074-WAT
- Issued
- 19 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 05 جون 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم شوہر کے پاس بیوی کی جمع شد در قم پر قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں گھر میں بچوں کو پڑھاتی ہوں، 15000 روپے سیلری ہے ، جو گھر کے اخراجات میں خرچ کے بعد کچھ بھی باقی نہیں بچتی، اور گھر میں سونا (gold) بھی نہیں ہے ، البتہ میرے 40000 روپے میرے شوہر کے پاس جمع ہیں، کیا اس صورت میں مجھ پر قربانی لازم ہے ؟ اور اگر لازم ہے تو کیا کسی سے اُدھار لے کر قربانی میں حصہ ڈال سکتے ہیں ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.