Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انجکشن کے ذریعے پیدا ہونے والے جانور کی قربانی کا حکم

Answered by
مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
Fatwa no.
5068-WAT
Issued
09 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /25مئی2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم مصنوعی طریقہ سے انجکشن کے ذریعہ پیدا ہونے والے جانور کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایسا جانور ، جسے روایتی طریقے سے ہٹ کر، انجکشن کے ذریعے حمل ٹھہرا کر لیا گیا ہو، کیا اس کی قربانی ہو جائے گی ؟ جواب انجکشن کے ذریعے حاصل کیے گئے جانور کی بھی قربانی ہو جائے گی، کیونکہ قربانی درست ہونے کے لئے اس جانور کا ایسی مادہ سے پیدا ہونا ضروری ہے ، جس کی جنس کی قربانی درست ہو، جیسے گائے، بکری اور اونٹنی وغیرہ ، کیونکہ جانور میں اصل ماں کا اعتبار ہوتا ہے ، ماں اگر اس جانور کی جنس سے ہے ، جس کی قربانی ہو جاتی ہے ، تو اب حمل ٹھہرانے کا، جو بھی طریقہ ہو، اس سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.