Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بلی بستر پر پیشاب کردے تو پاکی اور نماز کا حکم
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بلی بستر پر پیشاب کر دے ، تو اس کی پاکی کے متعلق احکام دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر بستر پر بلی پیشاب، پاخانہ کر دے ، تو کیا وہ ناپاک ہو جائے گا، اور اس پر بیٹھنے سے بھی کیا کپڑا نا پاک ہوگا، نیز کیا اس پر نماز پڑھ سکتے ہیں ، اور اسے پاک کس طرح کیا جائے گا؟ جواب بلی کا پاخانہ ، پیشاب نجاست غلیظہ ہے ، لہذا بستر کے جس حصہ پر لگے گا، اتنا حصہ ناپاک ہو جائے گا، یونہی اگر خاص اس جگہ بیٹھنے سے نجاست چھوٹ کر کپڑوں پر لگی، تواتنا کپڑا نا پاک ہو جائے گا، اور اگر اس بستر پر نماز پڑھیں گے ، تو اگر جس جگہ پر نماز کی حالت میں پاؤں، ہاتھ، گھٹنے، پیشانی، ناک رکھے جاتے ہیں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.