Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تین ٹانگوں والے بکرے کی قربانی کر سکتے ہیں؟
- Answered by
- مفتی محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5042-WAT
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم پیدائشی تین ٹانگوں والے بکرے کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر بحرے کی پیدائشی تین ٹانگیں ہوں، تو کیا اس کی قربانی جائز ہو جائے گی ؟ جواب جی نہیں !جس جانور کی پیدائشی صرف تین ٹانگیں ہوں، (یعنی اس کی ایک ٹانگ نہ ہو)، تو اس کی قربانی نہیں ہو سکتی، کیونکہ جانور کی چاروں ٹانگیں اس کے اعضائے مقصودہ میں سے ہیں، اور ایک ٹانگ کے نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ایک کامل عضو فوت ہے ، جو کہ عیب فاحش ہے ، اس لئے ایسے جانور کی قربانی نہیں ہو سکتی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.