Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سجیٰ یا ساجیہ نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- ابوشامد مولانا محمد ماجد علی مدنی
- Fatwa no.
- 5037-WAT
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچی کا نام سجی یا ساجیہ رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بیٹی کا نام "سبھی " رکھا جا سکتا ہے ؟ اس کے معنی اور شرعی حوالے سے بتا ئیں ۔ جواب سمی " باقاعدہ کوئی اسم نہیں، بلکہ یہ واحد مذکر غائب فعل ماضی معروف کا صیغہ ہے ، ہاں اساجیہ ، اسم ہے ، لہذا بچی کا نام "ساجیہ " رکھ سکتے ہیں، اس کا معنی ہے : " پر سکون "۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.