Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دکان کے نفع میں سے سید کو دینا

Fatwa no.
5036-WAT
Issued
06 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /23 مئی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم دکان سے حاصل ہونے والے نفع سے سادات کو حصہ دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا ایک سوال ہے ، میری دکان ہے ، جس میں جو بھی نفع ہوتا ہے، اس میں کچھ حصہ نیک کام کے لیے رکھ دیتا ہوں، کیا اسی حصے میں سے سادات کو دے سکتے ہیں ؟ جواب آپ جو مال نیک کاموں کے لئے الگ کر کے رکھتے ہیں، اس کی حیثیت نفلی صدقے کی ہے ، اور سادات کرام کو نفلی صدقات میں سے دینا جائز ہے ۔ سادات کرام کو صرف صدقات واجبہ (یعنی زکوۃ، عشر اور کناروں وغیرہ) میں سے دینے کی ممانعت ہے ۔ لہذا سادات کرام کو دکان کے نفع میں سے دینا جائز، بلکہ عظیم کار ثواب ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.