Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فدیہ کی رقم مدرسے کی تعمیر میں خرچ کرنا
- Answered by
- مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5034-WAT دار الافتاء اهلسنت
- Issued
- 06 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 23 مئی 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم فدیے کی رقم مدرسے کی تعمیر میں دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ کیا فدیہ کی رقم مدرسے کی تعمیر میں دے سکتے ہیں ؟ جواب فدیے کی رقم براہ راست مدرسے کی تعمیر میں دینا جائز نہیں ، کیونکہ اس کے مصارف وہی ہیں ، جوزکاۃ، فطرہ وغیرہ صدقات واجبہ کے ہیں ، اور اس میں کسی مستحق زکوۃ شخص کو رقم یا سامان کا مالک بنانا ضروری ہوتا ہے ، جبکہ مدرسے کی عمارت یا تعمیراتی کام میں تملیک نہیں پائی جاتی ۔ البتہ اگر کسی مدرسے میں مستحق زکوۃ طلبہ موجود ہوں، توفدیہ کی رقم ن طلبہ کو یا ان کے وکیل کو مالک بنا کر دی جا سکتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.