Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پانی میں مینڈک چلا جائے تو پانی پاک رہتا ہے؟

Answered by
مولانا محمد آصف عطاری مدنی
Fatwa no.
5029-WAT
Issued
05 ذوالحجۃ الحرام 1446ھ / 22 مئی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم پانی میں مینڈک چلا جائے تو اس کے متعلق احکام دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مینڈک تھوڑے پانی میں چلا جائے تو کیا حکم ہے ؟ تفصیل سے بیان کریں ۔ جواب اگر مینڈک تھوڑے غیر جاری پانی میں چلا جائے ، اور اس پر کسی نجاست کا لگا ہونا معلوم نہ ہو ، تو صرف اس کے پانی میں جانے سے پانی ناپاک نہیں ہو تا ، بلکہ پانی پاک رہتا ہے ، اور اس سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے ۔ بلکہ مینڈک اگر پانی میں مر بھی جائے ، تب بھی پانی پاک رہے گا، چاہے وہ پھول پھٹ بھی جائے ، ایسے پانی سے وضو اور غسل درست ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.