Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد میں نفلی صدقہ دینے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5024-WAT
- Issued
- 02 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /19 مئی 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مسجد کو نفلی صدقہ دینا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ ہم عام دنوں میں جو صدقہ دیتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں آنے والی مصیبتوں سے محفوظ رکھے ، یعنی کسی مصیبت کے آنے سے پہلے ہی نفلی صدقہ کیا جاتا ہے، تو یہ جو نفلی صدقہ ہم دیتے ہیں ، کیا اسے مسجد میں بھی دیا جا سکتا ہے ؟ رہنمائی فرما دیں۔ جواب مسجد میں نفلی صدقہ دینا ، جائز اور اجر و ثواب کا باعث ہے، کہ صدقہ نافلہ میں تملیک فقیر یعنی شرعی فقیر کو مالک بنا نا ضروری نہیں ہوتا، صدقہ نافلہ ہر کار خیر ، جیسے مسجد و مدرسہ و غیرہ سب میں دے سکتے ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بڑے ثواب کا کام ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.