Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رضاعی بیٹی کے بھائی سے بیٹی کا نکاح کرنا
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 5019-WAT تاریخ اجراء : 28 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 16 مئی 2026ء
- Issued
- 28 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 16 مئی 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم اپنی رضاعی بیٹی کے بھائی سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) چھوٹی بہن نے ، بڑی بہن کی بیٹی کو ، اس کے بچپن میں، دودھ پلایا تھا، اب چھوٹی بہن، اپنی بیٹی کی شادی ، بڑی بہن کے بیٹے سے کرنا چاہتی ہے ، تو کیا یہ جائز ہے، کیونکہ دودھ تو بیٹی کو پلایا تھا نہ کہ بیٹے کو؟ جواب جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں اگر کوئی اور وجہ ممانعت نہ ہو، تو چھوٹی بہن، اپنی بیٹی کی شادی، بڑی بہن کے بیٹے سے کر سکتی ہے ، کہ ان میں رضاعت کا کوئی رشتہ نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.