Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اعضائے غسل پانی میں چلے جائیں تو پانی مستعمل ہوگا؟

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
5013-WAT
Issued
23 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 11 مئی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا بے وضو کے اعضائے غسل پانی میں ڈالنے سے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مستعمل ہوگا ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نماز کے احکام میں لکھا ہے کہ : " بے وضو شخص بے دھلے اعضائے وضو مثلا ہاتھ وغیرہ اگر پانی میں ڈالے تو پانی مستعمل ہو جائے گا ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر بے وضو شخص اعضائے غسل پانی میں ڈال دے ، تو کیا اس سے پانی مستعمل ہوگا ، یا نہیں ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.