Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

داڑھی مونڈنے کے بعد توبہ قبول ہوگی؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4998-WAT
Issued
01 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /18 مئی 2026ء دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم داڑھی مونڈے کی توبہ قبول ہونے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر انسان نے شروع سے داڑھی نہیں رکھی مگر بعد میں رکھ لی تو کیا یہ قابل قبول ہے ؟ جواب جی ہاں ! اگر شریعت مطہرہ کی مقرر کردہ حد یعنی ایک مشت تک داڑھی رکھ لی ہے ، تو یقینا قابل قبول ہے ، البتہ جن ایام میں ایک مشت سے کم کروائی ، یا بالکل ہی منڈوالی تھی، ان ایام میں گناہ گار ہوئے ، اس سے تو بہ بھی کریں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.