Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرے کے لیے جمع کی ہوئی رقم پر قربانی کا حکم

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4997-WAT
Issued
01 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 18 مئی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم عمرے کی نیت سے جمع کی ہوئی رقم پر قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عمرے کی نیت سے جمع کی ہوئی رقم پر قربانی واجب ہے ؟ جواب اگر عمرے کے لیے جمع کردہ رقم اتنی ہے ، کہ وہ تنہا ہی ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کو پہنچ چکی ہے، یا تنہا خود تواتنی نہیں، مگر دیگر ضرورت سے زائد اور قرض سے فارغ اموال ، سامان و جائیداد سے مل کر اتنی ہو گئی ہے ، کہ اس سے ساڑھے باون تولے چاندی خریدی جا سکے ، اور یہ حیثیت قربانی کے ایام میں پائی جائے، تو قربانی واجب ہوگی، کہ عمرے کی نیت سے رقم جمع کرنا، قربانی کے واجب ہونے سے مانع نہیں ہے، البتہ !اگر یہ رقم اپنے پاس موجود…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.