Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ضرورت سے زائد کپڑوں پر قربانی کا حکم

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
4990-WAT
Issued
21 ذو القعدة الحرام 1447ھ /09 مئی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم ضرورت سے زائد کپڑوں کی وجہ سے قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایک اسلامی بہن کے پاس ضرورت سے زائد رقم نہیں ہے ، لیکن کپڑے موجود ہیں، جو استعمال میں نہیں آتے ، توکیا ان کپڑوں کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں ضرورت سے زائد کپڑے ، اگر اتنی قیمت کے ہیں، کہ وہ ایام قربانی میں تنہا ، یا دیگر ضرورت سے زائد سامان ، اموال کے ساتھ مل کر، کم از کم ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کو پہنچتے ہیں، اور قربانی واجب ہونے کی دیگر شرائط بھی پائی جاتی ہیں ، تو قربانی واجب ہوگی، ورنہ نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.