Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فاسق شخص نکاح میں گواہ بن سکتا ہے؟

Answered by
مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
Fatwa no.
4989-WAT
Issued
21 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 09 مئی 2026ء

Question

کیا فاسقوں کی گواہی نکاح میں درست مانی جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

سوال کیا فاسقوں کی گواہی نکاح میں درست مانی جائے گی ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم فاسقوں کا نکاح میں گواہ بننا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) یہ یادر ہے کہ گواہ بنا، اور گواہی دینا، یہ دو مختلف چیزیں ہیں، لہذا اگر نکاح کے گواہ ، فاسق ہوں، تو دیگر شرائط پائے جانے پر نکاح درست ہو جائے گا ۔ البتہ ! اگر نکاح کرنے والوں میں سے کوئی انکار کر دیتا ہے ، کہ ہمارا نکاح ہوا ہی نہیں ہے ، تو اس صورت میں قاضی کے پاس نکاح ثابت کرنے میں ، فاسق کی گواہی مقبول نہیں ہوگی ۔ چنانچہ الدر المختار میں ہے " (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما .

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.