Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دخول سے پہلے طلاق ہونے پر رجوع کا طریقہ

Answered by
ابو حفص مولانا محمد عرفان عطارمی مدنی
Fatwa no.
4982-WAT
Issued
18 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 06 مئی 2026ء دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم خلوت کے بعد دخول سے پہلے طلاق ہو جائے تو رجوع کا طریقہ . دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) خلوت صحیحہ کے بعد ، اور دخول سے پہلے ، اگر ایک طلاق ہو جائے ، تو عدت کے دوران رجوع کا کیا حکم ہوگا؟ نیز رجوع کیسے ہو گا؟ جواب دخول سے پہلے جو طلاق دی ، اگر چہ خلوت صحیحہ کے بعد دی ، وہ طلاق بائن ہے ، اگر چہ صریح الفاظ کے ساتھ دی ، لہذا اس کے بعد زبانی رجوع نہیں ہو سکتا، بیوی کی رضامندی سے ، نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ در مختار میں ہے " (والخلوة لا) تكون كالوطء (في حق الرجعة ) ترجمہ : رجعت کے معاملے میں خلوت طلاق کی طرح نہیں ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.