Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بینک اور انشورنس کمپنی کو کمپیوٹر بیچنے کا حکم
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4980-WAT
- Issued
- 16 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 04 مئی 2026ء دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بینک یا انشورنس کمپنی کو کمپیوٹر بیچنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بینک یا انشورنس کے ادارے کو یا اس جیسے کسی اور ادارے یا کمپنی کو کمپیوٹر وغیرہ بیچنا جائز ہے ؟ جواب ایسے ادارے یا کمپنی ، جن میں ناجائز و حرام کام بھی ہوتے ہیں، انہیں کمپیوٹر بیچنا شرعاً ممنوع نہیں، جبکہ گناہ پر معاونت کی کوئی نیت نہ ہو؛ کیونکہ کمپیوٹر ایک ایسا آلہ ہے ، جس کا استعمال گناہ کے کاموں کے ساتھ متعین نہیں ہے ، استعمال کرنے والے پر منحصر ہے ، کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.