Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غریب کسان پر عشر کا حکم؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4977-WAT
Issued
16 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 04 مئی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم غریب کسان کے لیے عشر کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا غریب کسان کی فصل پر بھی عشر لازم ہو گا ؟ جس کا گزر بسر بڑی مشکل سے ہو رہا ہو۔ جواب غریب کسان کی فصل پر بھی عشر ، یا نصف عشر لازم ہے ، کیونکہ عشر، یا نصف عشر ، اپنی شرائط کے مطابق فصل پر لازم ہوتا ہے ، اس میں فصل والے کے امیر یا غریب ہونے کا کوئی دخل نہیں ہے ، کہ اس میں صاحب نصاب ہونا شرط نہیں ہے ، لہذا جس کی بھی فصل کی پیداوار ہوگی ، اس پر درج ذیل تفصیل کے مطابق عشر ، یا نصف عشر لازم ہوگا : جو کھیت، بارش، یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے ، اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے ، اور جس کی آبپاشی،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.