Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوہا نام رکھنا اور اس کا مطلب؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم سوہا نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا سوہا " نام رکھ سکتے ہیں ؟ جواب سوہا " کے معنی ہیں : "لال و سرخ " وغیرہ ، یہ نام رکھنا معنی کے اعتبار سے اگر چہ جائز ہے ، لیکن بہتر یہی ہے کہ لڑکے کا نام اولاً صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد " نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ ، یا صحا بہ کرام و تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.