Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
والد کے ماموں زاد بھائی سے نکاح کرنا
- Answered by
- مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4969-WAT
- Issued
- 12 ذو القعدة الحرام 1447ھ /30 اپریل 2026ء دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم والد کے ماموں زاد بھائی سے نکاح کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا میں اپنے سگے ماموں کے بیٹے سے اپنی بیٹی کی شادی کر سکتا ہوں ؟ جواب چا، تایا اور ماموں وغیرہ کی اولاد کو عام بول چال میں بھائی بہن کہا جاتا ہے ، لیکن اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی اور نسب کے لحاظ سے یہ بھائی، بہن نہیں بن جاتے ، کہ ان سے بھی نکاح کی حرمت کے احکام لاگو ہوں، بلکہ یہ ایک دوسرے کے لیے شرعا نامحرم ہی ہوتے ہیں ، اور ان سے اور ان کی اولاد سے نکاح ہو سکتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.