Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چھالیہ کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 4967-WAT
- Issued
- 11 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 29 اپریل 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم چھالیہ کی خرید و فروخت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) چھالیہ کی خرید و فروخت ، اور اس کی سپلائی کا کیا حکم ہے ؟ جواب چھالیہ کی خرید و فروخت جائز ہے ، اور اس کی سپلائی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں، کیونکہ کسی چیز کی بیچ کے درست ہونے کے لیے بیع (جس چیز کو بیچا جارہا ہے ، اس کا "مالِ متقوم ہونا ضروری ہے اور کسی چیز کے "تال “ہونے کا مطلب یہ ہے کہ : اس کی طرف لوگوں کا رجحان ہو ، لوگ اسے جمع کرتے ہوں، اسے لینے ، دینے میں رغبت رکھتے ہوں۔ جبکہ "متقوم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ : اس چیز سے شریعت مطہرہ نے نفع اٹھانا ، جائز رکھا ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.