Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اسلام کی توہین کرنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4965-WAT
- Issued
- 11 ذو القعدة الحرام 1447ھ /29اپریل2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم اسلام کی توہین کرنے والے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں، بیوی میں سے اگر کوئی غصہ میں یہ بول دے "بھاڑ میں جائے اسلام “ تو کیا یہ کلمہ کفر ہے، اور کیا تجدید ایمان ونکاح کرنا ہو گا ؟ جواب یہ جملہ "بھاڑ میں جائے اسلام “ کہنے والا کافر ہو جاتا ہے، کیونکہ اس میں اسلام کی توہین و تحقیر ہے ۔ جس نے یہ جملہ کہا ، اس پر اپنے اس قول سے توبہ کرنا اور تجدید ایمان کرنالازم ہے ، پھر اس کے بعد اگر بیوی کو نکاح میں لانا چاہے ، تو اس کی مرضی سے تجدید نکاح کرنا لازم ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.