Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سحر نام رکھنا اور اس کا مطلب؟

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
4959-WAT
Issued
25 شوال المکرم 1447 ھ / 14 اپریل 2026. دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچی کا نام سحر رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا سحر نام رکھ سکتے ہیں اور اس کے معنی کیا ہیں ؟ جواب "سحر" کا مطلب ہے : صبح، فجر ، طلوع آفتاب سے کچھ پہلے کا وقت وغیرہ ۔ " ان معانی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے ، اس میں کوئی حرج نہیں ۔ البتہ ! بہتر یہ ہے کہ اپنی بیٹیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ، صحابیات اور نیک خواتین رضوان اللہ علیھن کے ناموں پر رکھے جائیں! کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.