Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر مسلم سے گھر خریدنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد آصف عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4943-WAT
- Issued
- 19 شوال المکرم 1447ء / 108 اپریل 2026. DaruliftaAhlesunnat
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم غیر مسلم سے گھر خریدنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی غیر مسلم سے اس کا گھر خرید نا کیسا، جہاں پر اب تک کچھ بھی اللہ کا ذکر نہیں ہوا ہے ۔ ؟ جواب غیر مسلم (جومر تد نہ ہو، اس) سے اس کا گھر خریدنا، جائز ہے، کیونکہ خرید وفروخت ، معاملات کے قبیل سے ہے ، اور کفار سے معاملات کرنا، جائز ہے ۔ فتاوی رضویہ میں امام اہلسنت ، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں : " معاملت مجردہ سوائے مرتدین ہر کافر سے جائز ہے ، جبکہ اس میں نہ کوئی اعانت کفریا معصیت ہو نہ اضرار اسلام و شریعت ، ورنہ ایسی معاملت مسلم سے بھی حرام ہے چہ جائیکہ کافر ، قال تعالى: ﴿…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.