Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض کی ادائیگی کیلئے سودی قرض لینا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4941-WAT
- Issued
- 19 شوال المکرم 1447ء / 108 اپریل 2026. DaruliftaAhlesunnat
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم قرض کی ادائیگی کے لئے سودی قرض لینے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا قرض ادا کرنے کیلئے سودی قرض لے سکتے ہیں ؟ جواب سودی قرض لینا ناجائز و حرام ہے ، سوائے اس شخص کے جسے شریعت مجبور قرار دے ، کیونکہ جس طرح سو دلینا حرام ہے ، اسی طرح دینا بھی حرام ہے ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر قرض کی ادائیگی کے لیے رقم نہیں ہے ، لیکن ضرورت سے زائد کوئی سامان وغیرہ ہے ، کہ جسے بیچ کر قرض ادا کر سکتا ہے ، تو اسے بیچ کر قرض ادا کرے، اور اگر ایسا کوئی سامان بھی نہیں ، تواب قرض خواہ پر لازم واجب ہے کہ وہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.