Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نابالغ کا دوسرے نابالغ کو عیدی دینا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4939-WAT
- Issued
- 09 ذو القعدة الحرام 1447ھ /27 اپریل 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نابالغ سمجھدار کا دوسرے نابالغ کو اپنے پیسوں سے عیدی دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں، کہ نابالغ سمجھدار لڑکا ، جس کی عمر تقریبا آٹھ سال ہے ، کیا وہ اپنے نابالغ بھانجے (جو ابھی چند دن کا ہے) کو ، اپنی ذاتی رقم سے ، عیدی وغیرہ دے سکتا ہے ؟ جواب نا بالغ اگرچہ سمجھدار ہو ، اپنی ذاتی رقم سے کسی کو عیدی وغیرہ گفٹ نہیں دے سکتا، کیونکہ نا بالغ، ہبہ (گفٹ) کرنے کا اہل نہیں ۔ اگر کرے گا تو اس کا یہ ہبہ باطل ہوگا، حتی کہ اس کا والد یا ولی بھی اس کا مال کسی کو ہبہ (گفٹ) نہیں کر سکتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.