Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا ہیجڑا اذان و اقامت کہہ سکتا ہے؟
- Answered by
- مفتی محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4937-WAT
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم ہیجڑے کی اذان واقامت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا خنثی یعنی ہیجڑا ، اذان اقامت کہہ سکتا ہے ؟ جواب خنٹی یعنی ہیجڑے کی اذان واقامت مکروہ ہے ، لہذا اگر یہ اذان دے ، تو دوبارہ اذان کہی جائے گی ، لیکن اس کی اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا؛ کیونکہ اقامت کی تکرار مشروع نہیں ہے۔ در مختار میں ہے " (ويكره أذان)۔۔۔ خنثى (و فاسق) ولو عالما۔۔۔ (ويعاد أذان --- لا إقامته ) لمشروعية تكراره في الجمعة دون تكرارها ترجمہ : خنثی اور فاسق اگر چہ عالم ہی ہوں ، ان کی اذان مکروہ ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.