Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دو عورتوں کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے کا ایک اصول
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مطلقہ عورت اور اس کے سابقہ شوہر کی دوسری بیوی کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت کا نام آمنہ ہے ، اور دوسری کا نام عائشہ ہے ۔ ان دونوں کا نکاح علی سے ہوا۔ علی نے عائشہ کو طلاق دے دی ، اور آمنہ سے ایک بیٹی پیدا ہوئی، جس کا نام فاطمہ ہے ۔ پھر عائشہ نے بحر سے نکاح کر لیا۔ اس کے بعد بحر نے دوسری شادی فاطمہ سے کرلی، جبکہ عائشہ پہلے فاطمہ کے باپ (علی) کے نکاح میں رہ چکی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بکر ان دونوں (عائشہ اور فاطمہ) کو ، ایک ہی وقت میں اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.