Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد کی بجلی سے قبرستان میں بلب جلانا
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی فتوی نمبر : 4928-WAT
- Fatwa no.
- 4928-WAT
- Issued
- 02 ذو القعدة الحرام 1447ھ /20 اپریل 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مسجد کی بجلی سے قبرستان میں بلب جلانے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسجد کے میٹر سے بجلی لے کر قبرستان میں بلب جلا نا کیسا ؟ جواب مسجد کے میٹر سے بجلی لے کر قبرستان میں بلب جلانا ناجائز و گناہ ہے ، کیونکہ مسجد کی تمام اشیا، مسجد کے کاموں کے لیے ہی وقف ہوتی ہیں ، انہیں کسی دوسرے مقصد یعنی قبرستان وغیرہ کے لیے استعمال کرنا، وقف کا خلاف مصرف استعمال ہے ، اور وقف کا خلاف مصرف استعمال جائز نہیں ۔ نہر الفائق میں ہے " الواجب ابقاء الوقف على ما كان عليه "ترجمہ : وقف کو اپنی اصل حالت پر باقی رکھنا واجب ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.